قطرۂ
18 Misre
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- ہجوم برق سے چرخ و زمیں یک قطرۂ خوں ہے
- ہر غنچۂ گل صورت یک قطرۂ خوں ہے
- خور قطرۂ شبنم میں ہے جوں شمع بہ فانوس
- قطرۂ خون جگر چشمک طوفاں زدہ ہے
- قطرۂ اشک دل بر صف مژگاں زدہ ہے
- صدف بن قطرۂ نیساں اسدؔ گوہر نہیں ہوتا
- ہر قطرۂ شربت مجھے اشک شکری ہے
- شرر ہو قطرۂ خون فسردہ در رگ خارا
- کہ ہر یک قطرۂ خوں دانہ ہے تسبیح مرجاں کا
- قطرۂ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہوا
- میں ہوں وہ قطرۂ شبنم کہ ہو خار بیاباں پر
- نہیں دل میں مرے وہ قطرۂ خوں
- نگین نام شاہد ہے مرے ہر قطرۂ خوں تن میں
- سیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرۂ خوں تن میں
- یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر
- ہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا
- تھکا جب قطرۂ بے دست و پا بالا دویدن سے