قطرہ
32 Misre
- از بس کہ صرف قطرہ زنی تھا بسان اشک
- وگر نہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- قطرہ ہاے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- قطرہ جو آنکھوں سے ٹپکا سو نگاہ آلودہ ہے
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- بہ کسوت عرق شرم قطرہ زن ہے خیال
- نہ پھولو ریزش اعداد کی قطرہ فشانی پر
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگا ں سے جانے میں
- کیجیے جوں اشک اور قطرہ زنی
- تر جبیں رکھتی ہے شرم قطرہ سامانی مجھے
- قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا
- ایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موج شراب
- آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا
- کہ سرشک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی
- قطرہ دریا میں جو مل جاے تو دریا ہو جائے
- خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
- قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل
- قطرہ ہائے خون بسمل زیب داماں ہیں اسدؔ
- قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
- ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
- آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
- ہوئی قطرہ فشانی ہائے مے باران سنگ آخر
- ہوں قطرہ زن بہ وادیٔ حسرت شبانہ روز
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- سرشک آشفتہ سر تھا قطرہ زن مژگاں سے جانے میں
- وگرنہ بحر میں ہر قطرہ چشم پر نم ہے
- رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا
- یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
- دل ہر قطرہ ہے ساز انا البحر
- کہ سر شک قطرہ زن ہے بہ پیام دل رسانی