قسم
12 Misre
- وہ فرنگی زادہ کھاتا ہے قسم انجیل کی
- غم خوار کو ہے قسم زنہار
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
- خدا کے واسطے ایسے کی پھر قسم کیا ہے
- یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
- قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
- ہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے
- قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
- کیا قسم ہے ترے ملنے کی کہ کھا بھی نہ سکوں
- ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
- قسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے