قرار
15 Misre
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- زلف خیال نازک و اظہار بے قرار
- سیماب بے قرار و اسدؔ بے قرار تر
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- ہزار دل بہ وداع قرار رکھتے ہیں
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- گریہ وحشت بے قرار جلوۂ مہتاب تھا
- گوش ہا سیمابی و دل بے قرار نغمہ ہے
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
- ہر برگ گل کے پردے میں دل بے قرار تھا
- نشان بے قرار شوق جز مژگاں نہیں باقی
- خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار
- حیراں کیے ہوئے ہیں دل بے قرار کے
- بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار