قدر
76 Misre
- حسن خوباں بسکہ بے قدر تماشا ہے اسدؔ
- اسدؔ ارباب فطرت قدر دان لفظ و معنی ہیں
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- کس قدر ہے نشہ فرساے خمار بنگ دل
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یارب
- خدایا کس قدر اہل نظر نے خاک چھانی ہے
- کریں گر قدر اشک دیدۂ عاشق خود آرا یاں
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- بہ قدر ظرف ہے ساقی خمار تشنہ کامی بھی
- جو چاہئے نہیں وہ مری قدر و منزلت
- تھا کس قدر شکستہ کہ ہے جا بجا گرو
- ہے وحشت جنون بہار اس قدر کہ ہے
- وحشت درد بیکسی بے اثر اس قدر نہیں
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- کس قدر داغ جگر شعلہ اٹھاتا ہے مجھے
- جس قدر روح نباتی ہے جگر تشنۂ ناز
- ہوئی ہے کس قدر ارزانی مۓ جلوہ
- بہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- ہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے
- بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے
- بتان شوخ کا دل سخت ہوگا کس قدر یارب
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- بہ قدر حسرت دل چاہیے ذوق معاصی بھی
- خدایا اس قدر بزم اسدؔ گرم تماشا ہو
- قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
- اس قدر ذوق نوائے مرغ بستانی مجھے
- کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
- دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گے
- ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
- ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
- بہ قدر رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
- پی جس قدر ملے شب مہتاب میں شراب
- کس قدر یارب ہلاک حسرت پا بوس تھا
- جی کس قدر افسردگی دل پہ جلا ہے
- کام یاروں کا بہ قدر لب و دنداں نکلا
- کس قدر خاک ہوا ہے دل مجنوں یا رب
- دو جہاں وسعت بہ قدر یک فضاۓ خندہ ہے
- اس قدر دشمن ارباب وفا ہو جانا
- فراغت کس قدر رہتی مجھے تشویش مرہم سے
- گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
- آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
- بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
- کس قدر ذوق گرفتاریٔ ہم ہے ہم کو
- اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
- دفع پیکان قضا اس قدر آساں سمجھا
- کس قدر دشمن ہے دیکھا چاہیے
- قدر سنگ سر رہ رکھتا ہوں
- حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
- جس قدر جگر خوں ہو کوچہ دادن گل ہے
- تجھ کو جس قدر ڈھونڈا الفت آزما پایا
- ہے بارے اعتماد وفا داری اس قدر
- ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر
- رہا بے قدر دل در پردۂ جوش ظہور آخر
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- کس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے
- ہے وطن سے باہر اہل دل کی قدر و منزلت
- ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
- زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
- آج یہ قدر دان معنی ہے
- ہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام
- کس قدر فکر کو ہے نال قلم موے دماغ
- کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہ
- دراز اس کی ہو عمر اس قدر سخن کوتاہ
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- کس قدر ساز دوعالم کو ملی جرأت ناز
- ہوں بہ قدر عدد حرف علی سبحہ شمار
- ہے اب کے شب قدر و دوالی باہم
- امام وقت کی یہ قدر ہے کہ اہل عناد
- اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
- علم سے ہی قدر ہے انسان کی