قاتل
36 Misre
- خوشا مستی کہ جوش حیرت انداز قاتل سے
- عیادت ہائے طعن آلود یاراں زہر قاتل ہے
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- قاتل بہ عزم ناز و دل از زخم در گداز
- جادۂ ہر دشت تار دامن قاتل ہوا
- جہاں جہاں مرے قاتل کا مجھ پہ احساں ہے
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- سمجھتا ہوں تپش کو الفت قاتل کی تاثیریں
- لطف نظارۂ قاتل دم بسمل آئے
- چرایا زخم ہاے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- شب کہ باندھا خواب میں آنے کا قاتل نے جناح
- وحشت نہ کھینچ قاتل حیرت نفس ہے بسمل
- غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کو
- قاتل تمکیں سنج نے یوں خاموشی کا پیغام کیا
- ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
- یاں پشت چشم شوخیٔ قاتل ہے آئنہ
- قاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو
- اسدؔ بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
- زخم مثل خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
- بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے
- نہ آئی سطوت قاتل بھی مانع میرے نالوں کو
- چرایا زخم ہائے دل نے پانی تیغ قاتل کا
- ہوائے سیر گل آئینۂ بے مہریٔ قاتل
- کہ لطف بے تحاشا رفتن قاتل پسند آیا
- خرام ناز بے پروائی قاتل پسند آیا
- شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
- لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اٹھا
- دراز دستی قاتل کے امتحاں کے لیے
- فزوں کی دوستوں نے حرص قاتل ذوق کشتن میں
- زخم تیغ قاتل کو طرفہ دل کشا پایا
- رہے نہ جان تو قاتل کو خوں بہا دیجے
- جز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ
- غرض اب تک خیال گرمیٔ رفتار قاتل ہے
- ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
- یہ قاتل وعدۂ صبر آزما کیوں
- کھنچ کے قاتل جب تری شمشیر آدھی رہ گئی