فیض
20 Misre
- ہے خامہ فیض بیعت بیدل بکف اسدؔ
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گردیدنی
- موج ہستی کو کرے فیض ہوا موج شراب
- دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
- بہ فیض بے دلی نومیدیٔ جاوید آساں ہے
- دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنی
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنی
- مظہر فیض خدا جان و دل ختم رسل
- فیض خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا
- جاں پناہا دل و جاں فیض رسانا شاہا
- پئے دعاے بقاے جناب فیض مآب
- جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے تو
- ساز یک ذرہ نہیں فیض چمن سے بے کار
- سونپے ہے فیض ہوا صورت مژگان یتیم
- اے خوشا فیض ہواے چمن نشو و نما
- رشتۂ فیض ازل ساز طناب معمار
- فیض سے تیرے ہے اے شمع شبستان بہار
- فیض معنی سے خط ساغر راقم سرشار
- مجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کے
- مسیح جس سے کرے اخذ فیض جاں بخشی