فنا
35 Misre
- بہ مرگ تکیۂ آسایش فنا معلوم
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- بس کہ مے پیتے ہیں ارباب فنا پوشیدہ
- پرواز فنا مشکل میں عجز تن آسانی
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- بیابان فنا ہے بعد صحراے طلب غالبؔ
- فنا کرتی ہے زائل سرنوشت کلفت ہستی
- ہے شعلۂ شمشیر فنا حوصلہ پرواز
- رکھا غفلت نے دور افتادۂ ذوق فنا ورنہ
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- رامشگر ارباب فنا نالۂ زنجیر
- ہے یہ سیاق گفتگو کچھ نہ سمجھ فنا سمجھ
- قطع سفر ہستی و آرام فنا ہیچ
- موے دماغ وحشت سر رشتۂ فنا ہے
- پرتو خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
- جی جلے ذوق فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں
- بہ مرگ تکیۂ آسائش فنا معلوم
- ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
- فنا کو سونپ گر مشتاق ہے اپنی حقیقت کا
- بہ طرز اہل فنا ہے فسانہ خوانی شمع
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- تھی نوآموز فنا ہمت دشوار پسند
- عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
- روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
- بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ
- فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- خاک فرصت برسر ذوق فنا اے انتظار
- ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ
- زندگی میں بھی رہا ذوق فنا کا مارا
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- جس کی صدا ہو جلوۂ برق فنا مجھے