فلک
38 Misre
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- ہر ایک اختر ہے فلک پر قطرۂ اشک کباب
- گر گیا بام فلک سے صبح طشت ماہتاب
- یعنی اے پیر فلک شام جوانی مفت ہے
- رنجش دل یک جہاں ویراں کرے گی اے فلک
- دریغا گردش آموز فلک ہے دور ساغر کا
- شکست گوشہ گیراں ہے فلک کو حاصل گردش
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- ہم اور تم فلک پیر جس کو کہتے ہیں
- مستعد قتل یک عالم ہے جلاد فلک
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- وہ فلک رتبہ کہ بر تو سن چالاک چڑھا
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گردیدنی
- افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے
- گردش محیط ظلم رہا جس قدر فلک
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- اتنا بھی اے فلک زدہ کیوں بد حواس ہے
- کچھ تو دے اے فلک ناانصاف
- فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
- ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
- دے داد اے فلک دل حسرت پرست کی
- فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں
- فلک سفلہ بے محابا ہے
- فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اس کو یاد اسدؔ
- ہے فلک بالا نشین فیض خم گر دیدنی
- کیسا فلک اور مہر جہاں تاب کہاں کا
- اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر
- بزم شادی ہے فلک کاہ کشاں ہے سہرا
- ابدا پشت فلک خم شدۂ ناز زمیں
- ذرے سے باندھے ہے خرشید فلک پر آئیں
- ترک فلک کے ہاتھ سے وہ چھین لیں حسام
- دریاے نور ہے فلک آبگینہ فام
- اس ناز کا فلک نے لیا مجھ سے انتقام
- باندھے ہے پیر فلک موج شفق سے زنار
- نہ فلک آئنہ ایجاد کف گوہر بار
- فلک العرش ہجوم خم دوش مزدور
- پھر فلک چرخ اور گردوں اور سپہر