فریب
30 Misre
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- واماندگی بہانہ و دل بستگی فریب
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- پر فشانی بھی فریب خاطر آسودہ ہے
- اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
- میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
- اے تسلی ہوس وعدہ فریب افسوں ہے
- فغاں بے اختیاری و فریب آرزو خوردن
- اب فریب طغرل و سنجر کھلا
- گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
- بازی خور فریب ہے اہل نظر کا ذوق
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- تگ و تاز آرزوہا بہ فریب شادمانی
- نہ غرور میرزائی نہ فریب ناتوانی
- فریب صنعت ایجاد کا تماشا دیکھ
- زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب
- دیا یاروں نے بے ہوشی میں درماں کا فریب آخر
- ہستی فریب نامۂ موج سراب ہے
- ہاں کھائیو مت فریب ہستی
- میں دل ہوں فریب وفا خوردگاں کا
- جو منکر وفا ہو فریب اس پہ کیا چلے
- لاف تمکیں فریب سادہ دلی
- ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔ
- اے تسلی ہوس وعدہ فریب افسوں ہے
- اے آگہی فریب تماشا کہاں نہیں
- ہے کس قدر ہلاک فریب وفائے گل
- بہ فریب آشنائی بہ خیال بے وفائی
- تگ و تاز آرزو ہا بہ فریب شادمانی
- نہ غرور میر زائی نہ فریب ناتوانی