فریاد
33 Misre
- اثر کمندی فریاد نارسا معلوم
- اثر فریاد دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- غنچے سے منقار بلبل وار ہو فریاد گل
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
- فسردگی میں ہے فریاد بے دلاں تجھ سے
- فریاد سے پیدا ہے اسدؔ گرمی وحشت
- زدست مشت پر و خار آشیاں فریاد
- برنگ نے ہے نہاں درہر استخواں فریاد
- ہوئی ہے محو بہ تقریب امتحاں فریاد
- جہان و اہل جہاں سے جہاں جہاں فریاد
- زدست شیشہ دلی ہاے دوستاں فریاد
- بہ کام دل کریں کس طرح گمرہاں فریاد
- ہوئی ہے لغزش پالکنت زباں فریاد
- خدا کے واسطے اے شاہ بیکساں فریاد
- فریاد اسدؔ بے نگہی ہاے بتاں سے
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- کہتے ہیں کہ تاثیر ہے فریاد جرس کو
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- جوش فریاد سے لوں گا دیت خواب اسدؔ
- شوخی فریاد سے ہے پدۂ زنبور گل
- فریاد اسدؔ غفلت رسوائی دل سے
- کس پردے میں فریاد کی آہنگ نکالوں
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
- یاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
- آہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
- فریاد کی کوئی لے نہیں ہے
- اثر فریاد دل ہاۓ حزیں کا کس نے دیکھا ہے
- جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں
- دل جگر تشنۂ فریاد آیا
- آہ وہ جرأت فریاد کہاں
- ایک فریاد و آہ و زاری ہے
- گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- پرواز بخوں خفتہ و فریاد رسا ہے