فتنہ
17 Misre
- شور حشر اس فتنہ قامت کے حضور
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- بے سر و ساماں اسدؔ فتنہ سر انجام ہے
- یک مژہ برہم زدن حشر دوعالم فتنہ ہے
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- شہرت چمن فتنہ و عنقا ارمی ہے
- ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظار
- فتنہ تاراج تمنا کے لیے درکار ہے
- نگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز
- کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
- نشہ میں گم کردہ راہ آیا وہ مست فتنہ خو
- اگر یہی عرق فتنہ ہے مکرر کھینچ
- کہ آج بزم میں کچھ فتنہ و فساد نہیں
- اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔ
- یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
- نشہ و جلوۂ گل برسر ہم فتنہ غبار
- نیرنگ زمانہ فتنہ پرور ہے آج