غیر
69 Misre
- غیر سے دیکھیے کیا خوب نباہی اس نے
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- نہ باندھے شعلۂ جوالہ غیر از گرد باد آتش
- نہ ہو بالیدہ غیر از جنبش دامان باد آتش
- ہے تصور صافی قطع نظر از غیر یار
- نہیں غیر از نگہ جوں نرگستاں فرش محفل ہا
- کفر ہے غیر از وفور شوق رہبر ڈھونڈھنا
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- سختی راہ محبت منع دخل غیر ہے
- نہیں ہے مزرع الفت میں حاصل غیر پامالی
- نہیں ہے بازگشت سیل غیر از جانب دریا
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- چمن میں کچھ نہ چھوڑا تو نے غیر از بیضۂ قمری
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بے تاب تھا
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- غیر از شکستہ حالی و حسرت کشیدگی
- تھا سپند بزم وصل غیر گو بیتاب تھا
- صفا کب جمع ہوسکتی ہے غیر از گوشہ گبری ہا
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
- غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے
- غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم سوزن میں نہیں
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- غیر یوں کرتا ہے میری پرسش اس کے ہجر میں
- گھر پر پڑا نہ غیر کے کوئی شرار حیف
- تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
- نظرے سوئے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں
- نہ دیکھیں روئے یک دل سرد غیر از شمع کافوری
- بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
- اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
- غیر کو یا رب وہ کیونکر منع گستاخی کرے
- مثل نقش مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے
- مے وہ کیوں بہت پیتے بزم غیر میں یا رب
- غیر کی بات بگڑ جائے تو کچھ دور نہیں
- رشک کہتا ہے کہ اس کا غیر سے اخلاص حیف
- غیر کی منت نہ کھینچوں گا پے توفیر درد
- بغل میں غیر کی آج آپ سوتے ہیں کہیں ورنہ
- غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
- غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
- غیر سے رات کیا بنی یہ جو کہا تو دیکھیے
- میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیے غیر سے تہی
- غیر لیں محفل میں بوسے جام کے
- غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
- جادہ غیر از نگہ دیدۂ تصویر نہیں
- مجھ کو دیار غیر میں مارا وطن سے دور
- تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیز
- عزیزو ذکر وصل غیر سے مجھ کو نہ بہلاؤ
- بہ سعی غیر ہے قطع لباس خانہ ویرانی
- کہ غیر جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں
- غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگر
- ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہ
- اپنے سے کر نہ غیر سے وحشت ہی کیوں نہ ہو
- دشمنی نے میری کھویا غیر کو
- کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی
- جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں
- کی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں
- کیا خوب تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیا
- در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- یاں صریر خامہ غیر از اصطکاک در نہیں
- دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈا
- دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے
- غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے
- نظرے سوے کہستاں نہیں غیر شیشہ ساماں
- تجھ میں اور غیر میں نسبت ہے و لیکن بہ تضاد
- تیر کو تیرے تیر غیر ہدف