غنچے
6 Misre
غنچے سے منقار بلبل وار ہو فریاد گل
غنچے میں دل تنگ ہے حوصلۂ گل ہنوز
گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
نکہت گل کو ہے غنچے میں نفس دزدیدن
صبا جو غنچے کے پردے میں جا نکلتی ہے
غنچے کے میکدے میں مست تامل ہے بہار
غ
All Letters
غنچے — Mirza Asadullah Khan Ghalib Concordance