غم
141 Misre
- بہ یاد قامت اگر ہو بلند آتش غم
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- جب نہ پاؤں کوئی غم خوار کہوں یا نہ کہوں
- اسدؔ یہ فرط غم نے کی تلف کیفیت شادی
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- حسرت آباد جہاں میں ہے الم غم آفریں
- کیا کروں غم ہاے پنہاں لے گئے صبر و قرار
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- بے فائدہ یاروں کو فرق غم و شادی ہے
- یہ شام غم آپ پر سحر کر
- بہ دم چند گرفتار غم چند رہا
- زیر بار غم دام و درم چند رہا
- غم و عشرت قدم بوس دل تسلیم آئیں ہے
- ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
- ناسازی نصیب درشتی غم سے ہے
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- اسدؔ از بس کہ فوج درد و غم سر گرم جولاں ہے
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- غم مجنوں عزاداران لیلی کا پرستش گر
- دریغا وہ مریض غم کہ فرط ناتوانی سے
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- دیکھا تو کم ہوے پہ غم روزگار تھا
- غیر کی مرگ کا غم کس لیے اے غیرت ماہ
- شکست ساز خیال آں سوے گریوۂ غم
- میں دشت غم میں آہوئے صیاد دیدہ ہوں
- از بسکہ تلخیٔ غم ہجراں چشیدہ ہوں
- اے اسدؔ رویا جو دشت غم میں میں حیرت زدہ
- غم خوار کو ہے قسم زنہار
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
- نشۂ مے کے اتر جانے کے غم سے انگور
- اے اسدؔ واشدن عقدۂ غم گرچا ہے
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- جو بشام غم چراغ خلوت دل تھا اسدؔ
- نہیں ہے ضبط جز مشاطگی ہاے غم آرائی
- کیا کہوں تاریکی زندان غم اندھیر ہے
- بے تکلف دوست ہو جیسے کوئی غم خوار دوست
- غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- دیکھا تو کم ہوئے پہ غم روزگار تھا
- کیوں اندھیری ہے شب غم ہے بلاؤں کا نزول
- بہت سہی غم گیتی شراب کم کیا ہے
- غلام ساقیٔ کوثر ہوں مجھ کو غم کیا ہے
- فرصت کشاکش غم پنہاں سے گر ملے
- مبارک باد اسدؔ غم خوار جان دردمند آیا
- لیتا ہوں مکتب غم دل میں سبق ہنوز
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بے دلی گرانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بے دلی ہے
- مجھے انتعاش غم نے پئے عرض حال بخشی
- اے غم ہنوز آتش اے دل ہنوز خامی
- غم سے مرتا ہوں کہ اتنا نہیں دنیا میں کوئی
- رگ و پے میں جب اترے زہر غم تب دیکھیے کیا ہو
- تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ
- تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
- کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال
- قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
- موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
- دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا
- ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسدؔ
- ہو غم ہی جاں گداز تو غم خوار کیا کریں
- میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
- غم اس کو حسرت پروانہ کا ہے اے شعلے
- نشاط داغ غم عشق کی بہار نہ پوچھ
- دشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- کیجے بیاں سرور تپ غم کہاں تلک
- کیا غم ہے اس کو جس کا علیؔ سا امام ہو
- ہم مشق فکر وصل و غم ہجر سے اسدؔ
- لائق نہیں رہے ہیں غم روزگار کے
- ناخن غم یاں سر تار نفس مضراب تھا
- کیا کہوں بیماریٔ غم کی فراغت کا بیاں
- کل اسدؔ کو ہم نے دیکھا گوشۂ غم خانہ میں
- ظلمت کدے میں میرے شب غم کا جوش ہے
- غم زمانہ نے جھاڑی نشاط عشق کی مستی
- روتے روتے غم فرقت میں فنا ہو جانا
- غم محرومئ جاوید نہیں
- غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
- ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی
- غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے
- شادی سے گزر کہ غم نہ ہووے
- انجام شمار غم نہ پوچھو
- تاراج کاوش غم ہجراں ہوا اسدؔ
- دشنہ اک تیز سا ہوتا مرے غم خوار کے پاس
- میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
- غم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے
- نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے
- ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کا
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
- دہان زخم پیدا کر اگر کھاتا ہے غم میرا
- جہاں میں ہو غم شادی بہم ہمیں کیا کام
- یوں ہو تو چارۂ غم الفت ہی کیوں نہ ہو
- مٹتا ہے فوت فرصت ہستی کا غم کوئی
- وہ مری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا
- کیا غم خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو
- نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
- سوز غم ہائے نہانی اور ہے
- ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیا
- پہلو تہی نہ کر غم و اندوہ سے اسدؔ
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- غم فراق میں تکلیف سیر باغ نہ دو
- گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
- ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے
- ہوئی یہ کثرت غم سے تلف کیفیت شادی
- غم آغوش بلا میں پرورش دیتا ہے عاشق کو
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- غم عشاق نہ ہو سادگی آموز بتاں
- نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانیے
- غم آوارگی ہائے صبا کیا
- تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
- ہے سبزہ زار ہر در و دیوار غم کدہ
- پرواز یک تپ غم تسخیر نالہ ہے
- کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
- جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا
- غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
- غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
- کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بری بلا ہے
- غم گیتی سے مرا سینہ عمر کی زنبیل
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- نہ کرے اگر ہوس پر غم بیدلی گرانی
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بیدلی ہے
- مجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی
- غم شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز
- پڑی ہے غم کی مرے دل میں پیچ دار گرہ
- زہر غم کر چکا تھا میرا
- غم سے جب ہو گئی ہو زیست حرام
- تیری اولاد کے غم سے ہے بروے گردوں
- یک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار
- پروانے کا نہ غم ہو تو پھر کس لیے اسدؔ
- شب زلف و رخ عرق فشاں کا غم تھا
- خوشی جینے کی کیا مرنے کا غم کیا
- غم سے جان عاشق دلگیر آدھی رہ گئی
- کیوں کہا تو نے کہ کہہ دل کا غم اس کے رو برو
- غم نے جب گھیرا تو چاہا ہم نے یوں اے دلنواز
- جز غم و رنج و الم گھاٹا ہے ہر یک بات میں