غرور
18 Misre
- دماغ زہد میں آخر غرور بے گناہی ہے
- بہ غرور طرح قامت و رعنائی سرد
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- اسدؔ ہنوز گمان غرور دانائی
- غرور دست رونے شانہ توڑا فرق ہدہد پر
- زبس ہے ناز پرواز غرور نشۂ صہبا
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- چہ حساب جانفشانی چہ غرور دلستانی
- نہ غرور میرزائی نہ فریب ناتوانی
- غرور دوستی آفت ہے تُو دشمن نہ ہو جاوے
- واں وہ غرور عز و ناز یاں یہ حجاب پاس وضع
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- ہے وہ غرور حسن سے بیگانۂ وفا
- غرور لطف ساقی نشۂ بیباکی مستاں
- چہ حساب جانفشانی چہ غرور دلستانی
- نہ غرور میر زائی نہ فریب ناتوانی