غبار
67 Misre
- رنگ سیاہ نیل غبار سحاب ہے
- غبار نالہ کمیں گاہ مدعا معلوم
- غبار سرمہ یاں گرد سواد نرگستاں ہے
- بس کہ ہے اصل دمیدن ہا غبار
- بس کہ وقت گریہ نکلا تیرہ کاری کا غبار
- غبار کوچہ ہائے موج ہے خاشاک ساحل ہا
- ہووے نہ غبار دل تسلیم زمیں گیراں
- حیرت حجاب جلوہ و وحشت غبار چشم
- کو نفس وچہ غبار جرأت عجز آشکار
- دشت ساماں ہے غبار خاطر آزردگاں
- جز غبار کردہ سیر آہنگی پرواز کو
- بسان دشت دل پر غبار رکھتے ہیں
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- غبار آلودہ ہیں جوں درد شمع کشتہ تقریریں
- غبار خط سے تعمیر بناے خانہ بربادی
- غبار راہ ویرانی ہے ملک دل کی آبادی
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- آئینہ خانہ وادی جوہر غبار تھا
- ہے ذرہ ذرہ تنگی جا سے غبار شوق
- اے مدعی طلسم عرق بے غبار ہے
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- پیرہن میں ہے غبار شرر طور ہنوز
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بخط غبار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- غضب ہے گر غبار خاطر احباب ہوجاوے
- نگہ غبار ادب گاہ جلوہ فرمائی
- زبس نکلا غبار دل بوقت گریہ آنکھوں سے
- غبار آوارہ و سرگشتہ ہے یا بو تراب اس کا
- تو کہے صحرا غبار دامن دیوانہ تھا
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- کہ خط غبار زمیں خیز زلف مشکیں ہے
- دل سے اٹھے ہے جو غبار گرد سواد باغ ہے
- غبار دشت وحشت سرمہ ساز انتظار آیا
- غبار خط رخ گرد سحر ہے
- ہے کوچہ ہاے نے میں غبار صدا بلند
- پیمانۂ ہوا ہے مشت غبار صحرا
- سر میں ہواے گلشن دل میں غبار صحرا
- گویا کہ تختہ مشق ہیں خط غبار کے
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
- آئینہ خانہ وادیٔ جوہر غبار تھا
- نامہ بھی لکھتے ہو تو بہ خط غبار حیف
- پائی جگہ بھی دل میں تو ہو کر غبار حیف
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- ہے ذرہ ذرہ تنگئ جا سے غبار شوق
- گویا کہ تختۂ مشق ہیں خط غبار کے
- یارب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا
- موج غبار سے پر یک دشت وا کروں
- افشاں غبار سرمہ سے فرد صدا کروں
- مگر غبار ہوے پر ہوا اڑا لے جاے
- اگر رکھتی نہ خاکستر نشینی کا غبار آتش
- پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
- ہے غبار شیشۂ ساعت رم آہو مجھے
- پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
- دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
- عاشق کو غبار دل اک وجۂ صفائی ہے
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- بہا ہے یاں تک اشکوں میں غبار کلفت خاطر
- موج غبار سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
- بے خون دل ہے چشم میں موج نگہ غبار
- زمیں سے سودۂ گوہر اٹھے بجاے غبار
- سرنوشت دو جہاں ابر بیک سطر غبار
- نشہ و جلوۂ گل برسر ہم فتنہ غبار
- بزم آئینہ تصویر نما مشت غبار
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار