غالبؔ
188 Misre
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے کہنا نہیں مجھے
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- کبھی آ جائے گی کیوں کرتے ہو جلدی غالبؔ
- شمع ہوں تو بزم میں جا پاؤں غالبؔ کی طرح
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- نہ پوچھ حال شب و روز ہجر کا غالبؔ
- واسطے فکر مضامین متیں کے غالبؔ
- مژدہ باد اے آرزوے مرگ غالبؔ مژدہ باد
- غالبؔ زبس کہ سوکھ گئے چشم میں سرشک
- رکھ فکر سخن میں تو معذور مجھے غالبؔ
- غالبؔ بدوش دل خم مستاں اٹھائیے
- جنون فرقت یاران رفتہ ہے غالبؔ
- اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ
- بیابان فنا ہے بعد صحراے طلب غالبؔ
- دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- مرگیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- چھپاؤں کیونکے غالبؔ سوزشیں داغ نمایاں کی
- حیف بے حاصلی اہل ریا پر غالبؔ
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئی
- اب ہے دلی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ
- بادشاہی کا جہاں یہ حال ہو غالبؔ تو پھر
- مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائی
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- مجھے راہ سخن میں خوف گمراہی نہیں غالبؔ
- مری محفل میں غالبؔ گردش افلاک باقی ہے
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- غالبؔ ایسے گنج کو شایاں یہی ویرانہ تھا
- غالبؔ کو نہ تشنہ کام چھوڑے
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- فقیر غالبؔ مسکیں کا ہے کہن تکیہ
- میں نے روکا رات غالبؔ کو وگرنہ دیکھتے
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- غیروں سے اسے گرم سخن دیکھ کے غالبؔ
- جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
- غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا
- تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
- تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر
- ہے ردیف شعر میں غالبؔ ز بس تکرار دوست
- غالبؔ برا نہ مان جو واعظ برا کہے
- اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالبؔ
- غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
- واسطے جس شہہ کے غالبؔ گنبد بے در کھلا
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- حیف اس چار گرہ کپڑے کی قسمت غالبؔ
- نہ کہہ کسی سے کہ غالبؔ نہیں زمانے میں
- سخن میں خامۂ غالبؔ کی آتش افشانی
- غالبؔ ترا احوال سنا دیں گے ہم ان کو
- تم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے
- غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیں
- کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالبؔ
- سادہ پرکار ہیں خوباں غالبؔ
- آشنا غالبؔ نہیں ہیں درد دل کے آشنا
- نہ بندھے تشنگی ذوق کے مضموں غالبؔ
- مطرب دل نے مرے تار نفس سے غالبؔ
- جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے
- بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
- نہ پوچھ وسعت مے خانۂ جنوں غالبؔ
- آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
- دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
- وہ آویں گے مرے گھر وعدہ کیسا دیکھنا غالبؔ
- غالبؔ خدا کرے کہ سوار سمند ناز
- سمجھ اس فصل میں کوتاہی نشو و نما غالبؔ
- غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعا
- تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا
- میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالبؔ کہ دل
- میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
- غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
- غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
- مر گیا صدمۂ یک جنبش لب سے غالبؔ
- کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن
- میرزا یوسف ہے غالبؔ یوسف ثانی مجھے
- بے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
- ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالبؔ
- رہے غالبؔ خستہ مغلوب گردوں
- یاد ہیں غالبؔ تجھے وہ دن کہ وجد ذوق میں
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- ہے دل شوریدۂ غالبؔ طلسم پیچ و تاب
- یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہل جہاں
- نظر میں ہے ہماری جادۂ راہ فنا غالبؔ
- بیگانگی خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ
- دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ
- رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
- غالبؔ بہ دوش دل خم مستاں اٹھائیے
- غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
- قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔ
- بخشے ہے جلوۂ گل ذوق تماشا غالبؔ
- بادہ غالبؔ عرق بید نہیں
- غالبؔ ہے رتبہ فہم تصور سے کچھ پرے
- کہوں کیا خوبی اوضاع ابنائے زماں غالبؔ
- ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے
- گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
- عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
- ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
- مرے شاہ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔ
- دل نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔ
- ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالبؔ
- بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ
- نہ لڑ ناصح سے غالبؔ کیا ہوا گر اس نے شدت کی
- غالبؔ یہ خوف ہے کہ کہاں سے ادا کروں
- غالبؔ اپنا یہ عقیدہ ہے بقول ناسخؔ
- میرؔ کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ
- غالبؔ ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے
- نشوونما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
- غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
- مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالبؔ
- غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں
- مر گیا پھوڑ کے سر غالبؔ وحشی ہے ہے
- آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔ
- درماندگی میں غالبؔ کچھ بن پڑے تو جانوں
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
- ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہے
- نہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
- تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ
- لیے جاتی ہے کہیں ایک توقع غالبؔ
- خوب رویوں نے بنایا غالبؔ بد خو مجھے
- نہ دے نامے کو اتنا طول غالبؔ مختصر لکھ دے
- کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ
- بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
- کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ
- قیامت ہے کہ ہووے مدعی کا ہم سفر غالبؔ
- نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ
- غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھے
- غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
- کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
- ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
- اس انجمن ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
- سفینہ جب کہ کنارے پہ آ لگا غالبؔ
- مر گیا غالبؔ آشفتہ نوا کہتے ہیں
- غالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نامہربان ہے
- تاب لائے ہی بنے گی غالبؔ
- سر پھوڑنا وہ غالبؔ شوریدہ حال کا
- جلوۂ خور سے فنا ہوتی ہے شبنم غالبؔ
- وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔ
- مجھے جنوں نہیں غالبؔ ولے بقول حضور
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔ
- وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
- کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
- غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے
- ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن
- غالبؔ کو جانتا ہے کہ وہ نیم جاں نہیں
- بلائے جاں ہے غالبؔ اس کی ہر بات
- ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
- کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
- غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم آغوشی آرزو
- دل لگا کر آپ بھی غالبؔ مجھی سے ہو گئے
- یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ
- کرکے دل و زبان کو غالبؔ خاکسار ایک
- غالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہ
- یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دے
- کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہے
- ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہے
- ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ
- صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ
- شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجات
- غالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے
- کہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے
- ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں
- یہی بار بار جی میں مرے آئے ہے کہ غالبؔ
- غالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت
- خدا نے دی ہے وہ غالبؔ کو دستگاہ سخن
- غالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام
- کیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام
- بے وجہ کیوں ذلیل ہو غالبؔ ہے جس کا نام
- غالبؔ عاجز نیاز آگیں
- غالبؔ منہ بند ہو گیا ہے گویا
- دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ
- دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ
- سونا سوگند ہو گیا ہے غالبؔ
- غالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
- روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکن
- غالبؔ وہ مسلمان نہیں ہے زنہار
- بھرا ہے غالبؔ دلخستہ کے کلام میں درد
- اور غالبؔ پہ مہربان رہیں
- جو حد تقوی ادا نہ ہووے تو اپنا مذہب یہی ہے غالبؔ
- بادہ غالبؔ عرق بید نہیں
- تحریر ہے یہ غالبؔ یزداں پرست کی
- تم جو فرماتے ہو دیکھ اے غالبؔ آشفتہ سر