غافل
33 Misre
- مت رکھ اے انجام غافل ساز ہستی پر غرور
- غافل تپش مجنوں محمل کش لیلی ہے
- طلسم آئنہ زانوے فکر ہے غافل
- کشود غنچۂ خاطر عجب نہ رکھ غافل
- اس موج مے کو غافل پیمانہ نقش پا ہے
- تماشا ہے علاج بے دماغی ہاے دل غافل
- سادہ و پرکار تر غافل و ہشیار تر
- عیش کر غافل حجاب نشہ محفل نہ پوچھ
- دریغا بستن رخت سفر سے ہو کے میں غافل
- زبس طوفان آب و گل ہے غافل کیا تعجب ہے
- جب نالہ خوں ہو غافل تاثیر کیا بلا ہے
- کہ ہم بیضہ طوطی ہند غافل
- جلوہ مایوس نہیں دل نگرانی غافل
- غفلت استعداد ذوق و مدعا غافل اسدؔ
- آگہی غافل کہ ایک امروز بے فردا نہیں
- خانمان جبریان غافل از معنی خراب
- یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی
- وہ آیا بزم میں دیکھو نہ کہیو پھر کہ غافل تھے
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- غافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے
- لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
- غافل بہ وہم ناز خود آرا ہے ورنہ یاں
- نہ مارا جان کر بے جرم غافل تیری گردن پر
- غافل ان مہ طلعتوں کے واسطے
- اے کرم نہ ہو غافل ورنہ ہے اسدؔ بیدل
- غافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
- کاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ
- سمجھیو مت کہ پاس درد سے دیوانہ غافل ہے
- تکلف ساز رسوائی ہے غافل شرم رعنائی
- دل غافل از حقیقت ہمہ ذوق قصہ خوانی
- تری سادگی ہے غافل در دل پہ پاسبانی