عیش
32 Misre
- عیش گرم اضطراب و اہل غفلت سرد مہر
- فرو پیچیدنی ہے فرش بزم عیش گستر کا
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- عیش کر غافل حجاب نشہ محفل نہ پوچھ
- عیش بازی کدۂ حسرت جاوید رسا
- کلفت افسردگی کو عیش بے تابی حرام
- عیش ابد از خویش بروں تا ختنی ہے
- شب اختر قدح عیش نے محمل باندھا
- ساز عیش بے دلی ہے خانہ ویرانی مجھے
- ہم نشیں مت کہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- رنجش یار مہرباں عیش و طرب کا ہے نشاں
- آشیاں بند بہار عیش ہوں ہنگام قتل
- درکار ہے شگفتن گل ہائے عیش کو
- نہ پوچھ بے خودی عیش مقدم سیلاب
- فضائے خندۂ گل تنگ و ذوق عیش بے پروا
- فلک سے ہم کو عیش رفتہ کا کیا کیا تقاضا ہے
- اس عمل میں عیش کی لذت نہیں ملتی اسدؔ
- عیش بازی کدۂ حسرت جاوید رسا
- نہ کی سامان عیش و جاہ نے تدبیر وحشت کی
- کلفت افسردگی کو عیش بیتابی حرام
- بزم قدح سے عیش تمنا نہ رکھ کہ رنگ
- دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
- ہم نشیں مت کہہ کہ برہم کر نہ بزم عیش دوست
- بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے
- دوام کلفت خاطر ہے عیش دنیا کا
- تاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیر
- فراز مسند عیش و طرب جگہ پائی
- مسند عیش پر جگہ پائی
- عیش بسمل کدۂ عید حریفاں معلوم
- متاع عیش کا ہے قافلہ چلا آتا
- لنگر عیش پہ سرشار تماشاے دوام
- ہاں چھ گھنٹے کی تو ہوتی فرصت عیش و طرب