عہد
23 Misre
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- لیکن بناے عہد وفا استوار تر
- جنوں فسردۂ تمکیں ہے کاش عہد وفا
- بستن عہد محبت ہمہ نادانی تھا
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- رنگ طرب ہے صورت عہد وفا گرو
- طلسم رنگ میں باندھا تھا عہد استوار اپنا
- قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
- وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
- آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا
- کف افسوس ملنا عہد تجدید تمنا ہے
- کف افسوس سو دن عہد تجدید تمنا ہے
- آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں
- زمانہ عہد میں اس کے ہے محو آرایش
- خط عارض سے لکھا ہے زلف کو الفت نے عہد
- بستن عہد محبت ہمہ نادانی تھا
- جاہ و جلال عہد وصال بتاں نہ پوچھ
- تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا
- تاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل
- اے ترا عہد فرخی فرجام
- خدا سے ہے یہ توقع کہ عہد طفلی میں
- وہ کہ ہے والی ولایت عہد
- عدل سے اس کے ہے حمایت عہد