عشق
122 Misre
- دیوانگاں ہیں حامل راز نہان عشق
- بقدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- تپیدن دل کو سوز عشق میں خواب فرامش ہے
- فنا کو عشق ہے بے مقصداں حیرت پرستاراں
- بہار تعزیت آباد عشق ماتم ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- اے سر شوریدہ ذوق عشق و پاس آبرو
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- مجنون دشت عشق تحیر شکار تر
- سمجھا ہوا ہوں عشق میں نقصاں کو فائدہ
- عشق کمیں گاہ درد وحشت دل دور گرد
- لذت تقریر عشق پردگی گوش دل
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- دعوی عشق بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح
- اب چار سوے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- باغ خاموشی دل سے سخن عشق اسدؔ
- نہیں ہے سر نوشت عشق غیر از بے دماغی ہا
- عشق کو ہر رنگ شان حسن ہے مد نظر
- دیار عشق میں جاتا ہے جو سودا گری ساماں
- ڈرتا ہوں کوچہ گردی بازار عشق ہے
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- لو ہم مریض عشق کے تیمار دار ہیں
- کرے ہے رہرواں سے خضر راہ عشق جلادی
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- کرے کیا دعوی آزادی عشق
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- سراپا رہن عشق و ناگزیر الفت ہستی
- ناز لطف عشق با وصف توانائی عبث
- بہ عشق ساقی کوثر بہار بادہ پیمائی
- بر خاک اوفتادگی کشتگان عشق
- سوداے عشق سے دم سرد کشیدہ ہوں
- عشق ترسا بچہ و ناز شہادت مت پوچھ
- شوخی حسن و عشق ہے آئنہ دار ہمدگر
- بس کہ ہے صیاد راہ عشق میں محو کمیں
- کیا کمال عشق نقص آباد گیتی میں ملے
- وہ تب عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- عشق میں ہم نے ہی ابرام سے پرہیز کیا
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائے گا
- حسرت کدۂ عشق کی ہے آب و ہوا گرم
- عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- رونق ہستی ہے عشق خانہ ویراں ساز سے
- عشق میں بیداد رشک غیر نے مارا مجھے
- جوش ویرانی ہے عشق داغ بیروں دادہ سے
- باغ خاموشیٔ دل سے سخن عشق اسدؔ
- کم جانتے تھے ہم بھی غم عشق کو پر اب
- اے سر شوریدہ ناز عشق و پاس آبرو
- بہ قدر حوصلۂ عشق جلوہ ریزی ہے
- سختی کشان عشق کی پوچھے ہے کیا خبر
- اہل ہوس کی فتح ہے ترک نبرد عشق
- حریف وحشت ناز نسیم عشق جب آؤں
- شعلۂ عشق سیہ پوش ہوا میرے بعد
- کون ہوتا ہے حریف مے مرد افگن عشق
- آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالبؔ
- حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا
- عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگ
- یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
- عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
- جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ عشق کی
- بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاں
- گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق
- عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
- نشاط داغ غم عشق کی بہار نہ پوچھ
- رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
- جگر کو مرے عشق خوں نابہ مشرب
- وفا مقابل و دعواۓ عشق بے بنیاد
- رنج رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے
- سراپا رہن عشق و نا گزیر الفت ہستی
- مشکل عشق ہوں مطلب نہیں آساں میرا
- عشق کی راہ میں ہے چرخ مکوکب کی وہ چال
- ہے سنگ پر برات معاش جنون عشق
- اب چار سوئے عشق سے دوکاں اٹھائیے
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- غم زمانہ نے جھاڑی نشاط عشق کی مستی
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- بیداد عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
- عشق تاثیر سے نومید نہیں
- عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
- نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
- جیب نیاز عشق نشاں دار ناز ہے
- شام غم میں سوز عشق آتش رخسار سے
- عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
- ہے داغ عشق زینت جیب کفن ہنوز
- اعتبار عشق کی خانہ خرابی دیکھنا
- دل خونیں جگر بے صبر و فیض عشق مستغنی
- لو ہم مریض عشق کے بیمار دار ہیں
- قہرمان عشق میں حسرت سے لیتے ہیں خراج
- پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق
- ہوا ہوں عشق کی غارتگری سے شرمندہ
- عشق و مزدوری عشرت گہ خسرو کیا خوب
- وہ تپ عشق تمنا ہے کہ پھر صورت شمع
- عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
- بہار تعزیت آباد عشق ماتم ہے
- چمن میں کون ہے طرز آفرین شیوۂ عشق
- ہزاروں دل دیے جوش جنون عشق نے مجھ کو
- ہم سے چھوٹا قمار خانۂ عشق
- سفر عشق میں کی ضعف نے راحت طلبی
- شعلۂ عشق کو اپنا سر و ساماں سمجھا
- پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- وہ بد خو اور میری داستان عشق طولانی
- ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
- وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
- لطف عشق ہریک انداز دگر دکھلائیے گا
- عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
- کیا آبروئے عشق جہاں عام ہو جفا
- عشق كا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
- اے جوش عشق بادۂ مرد آزما مجھے
- دیوانگاں ہیں حامل راز نہان عشق
- عشق سے آتے تھے مانع میرزاؔ صاحب مجھے
- کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
- سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
- غم عشق گر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا
- عشق بے ربطی شیرازۂ اجزاے حواس
- تھا موجد عشق بھی قیامت کوئی
- یعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج
- رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے
- ہو کر شہید عشق میں پائے ہزار جسم
- نیاز عشق خرمن سوز اسباب ہوس بہتر
- پوچھے ہے کیا معاش جگر تفتگان عشق