عرض
97 Misre
- بہر عرض حال شبنم سے رقم ایجاد گل
- خاک ہے عرض بہار صد نگارستاں اسدؔ
- واں سے ہے تکلیف عرض بیدماغی اور اسدؔ
- صورت مژگان عاشق صرف عرض شانہ تھا
- عرض وحشت پر ہے ناز ناتوانی ہاے دل
- واں سے ہے تکلیف عرض بے دماغی ہاے دل
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہئے
- عرض نشاط دید ہے مژگان انتظار
- جوہر افسانہ ہے عرض تجمل ہنور
- اشک ریزی عرض بال افشانی امید ہے
- عرض بہار جوہر پرواز ہے مجھے
- بہ زبان عرض فسون ہوس گل تا چند
- عرض حسرت پس زانوے تامل تا چند
- عرض درد بے وفائی وحشت اندیشہ ہے
- اے ہوس عرض بساط ناز مشتاقی نہ مانگ
- لذت عرض کشاد عقدۂ مشکل نہ پوچھ
- شمع سے جز عرض افسون گداز دل نہ پوچھ
- زباں سے عرض تمناے خامشی معلوم
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- حریف عرض سوز دل نہیں ہے
- عرض ناز شوخی دنداں براے خندہ ہے
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- ہے عرض جوہر خط و خال ہزار عکس
- حسرت عرض تمنا میں ہوں رنجور ہنوز
- اے اسدؔ بے جا ہے ناز سجدۂ عرض نیاز
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ کا
- نگاہ ناز نے جب عرض تکلیف شرارت کی
- ہنوز اے تیشۂ فرہاد عرض آتشیں پائی
- یاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا
- عرض حیرانی بیمار محبت معلوم
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- عرض بساط انجمن رنگ مفت ہے
- ہر ذرہ خاک عرض تمناے رفتگاں
- کروں گر عرض سنگینی کہسار اپنی بیتابی
- حیف اے تنگ تمنا کہ پئے عرض حیا
- حسن آشفتگی جلوہ ہے عرض اعجاز
- شب کہ دل زخمی عرض دو جہاں تیر آیا
- عرض شبنم سے چمن آئینہ تعمیر آیا
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- بہزاد نقش یک دل صد چاک عرض کر
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانی بزم
- عرض سرشک پر ہے فضاے زمانہ تنگ
- موج سراب صحرا عرض خمار صحرا
- تاب عرض تشنگی اے ساقی کوثر نہیں
- ذرہ دے مجنوں کے کس کس داغ کو پرواز عرض
- ہے عرض شکست آئنہ جرأت عاشق
- جوش نیرنگ بہار عرض صحرا دادہ سے
- عرض سرشک پر ہے فضاۓ زمانہ تنگ
- عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
- ہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- مجھے انتعاش غم نے پئے عرض حال بخشی
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- در خور عرض نہیں جوہر بیداد کو جا
- اسد کو حسرت عرض نیاز تھی دم قتل
- عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں
- شور ہے کس بزم کی عرض جراحت خانہ كا
- عرض خمیازۂ مجنوں ہے گریباں میرا
- عرض ناز شوخیٔ دنداں برائے خندہ ہے
- عرض نیاز عشق کے قابل نہیں رہا
- حسرت عرض تمنا یاں سے سمجھا چاہیے
- خوش وحشتے کہ عرض جنون فنا کروں
- گر عرض تپاک جگر سوختہ چاہیں
- عرض متاع عقل و دل و جاں کیے ہوئے
- کھلا کہ فائدہ عرض ہنر میں خاک نہیں
- لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
- رنگ نے گل سے دم عرض پریشانیٔ بزم
- کروں بے داد ذوق پر فشانی عرض کیا قدرت
- سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
- کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
- کہ حسرت کش رہا عرض ستم ہائے جدائی کا
- جلوہ پھر عرض ناز کرتا ہے
- آبگینہ کوہ پر عرض گراں جانی کرے
- میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
- جز پشت چشم نسخہ عرض دوا نہ مانگ
- گر وہ مست ناز دیوے گا صلائے عرض حال
- غالبؔ نہ کر حضور میں تو بار بار عرض
- ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
- آئینہ عرض کر خط و خال بیاں نہ پوچھ
- عرض فضاۓ سینۂ درد امتحاں نہ پوچھ
- ہمہ عرض نا شکیبی ہمہ ساز جاں ستانی
- شرر اسیر دل کو ملے اوج عرض اظہار
- مجھے انتعاش غم نے پے عرض حال بخشی
- کف موجۂ حیا ہوں بہ گزار عرض مطلب
- نقش معنی ہمہ خمیازۂ عرض صورت
- حیرت آفت زدۂ عرض دو عالم نیرنگ
- یا علی عرض کر اے فطرت وسواس قریں
- شوخی عرض مطالب میں ہے گستاخ طلب
- مدعا عرض فن شعر نہیں
- مستی باد صبا سے ہے بہ عرض سبزہ
- کس قدر عرض کروں ساغر شبنم یارب
- سبحہ عرض دو عالم بکف آبلہ دار
- عرض خمیازہ ایجاد ہے ہر موج غبار
- عرض تسخیر تماشا سے بہ دام اظہار
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
- عرض خمیازۂ سیلاب ہو طاق دیوار
- تمثال جلوہ عرض کر اے حسن کب تلک