عربدہ
4 Misre
یاس و امید نے یک عربدہ میداں مانگا
حسرت میں رہے ایک بت عربدہ جو کی
عشق پر عربدہ کی گوں تن رنجور نہیں
اسدؔ اے بے تحمل عربدہ بیجا ہے ناصح سے
ع
All Letters