عدم
32 Misre
- ہستی عدم ہے آئینہ گر رو برو نہ ہو
- عدم وحشت سراغ و ہستی آئیں بند رنگینی
- سادگی ہے عدم قدرت ایجاد غنا
- مرگ سے وحشت نہ کر راہ عدم پیمودہ ہے
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- ہلاک بے خبری نغمۂ وجود و عدم
- چنار آسا عدم سے بادل پر آتش آیا ہوں
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- فرصت آئینہ و پرواز عدم تا ہستی
- نہ بندھا تھا بہ عدم نقش دل مور ہنوز
- عدم میں بہر فرق سرد مشت خاک باقی ہے
- آہنگ عدم نالہ بہ کہسار گرد ہے
- اے آبلے مجمل پئے صحراے عدم باندھ
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- ہم آئے ہیں غالبؔ رہ اقلیم عدم سے
- دیکھتے ہیں چشم از خواب عدم نکشادہ سے
- نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھے
- عدم ہے خیر خواہ جلوہ کو زندان بیتابی
- تنگی رفیق رہ تھی عدم یا وجود تھا
- سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
- میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
- پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہل شوق کا
- ہے عدم میں غنچہ محو عبرت انجام گل
- ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبؔ
- رنگریز جسم و جاں نے از خمستان عدم
- وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
- پرافشاں ہے غبار آں سوئے صحرائے عدم میرا
- فرصت آرام غش ہستی ہے بحران عدم
- عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم
- آ پہنچے ہیں تا سواد اقلیم عدم