عجز
54 Misre
- عجز دید نہا بناز و ناز رفتن ہا بچشم
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- ماہ نو ہوں کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز نالی ہے
- جز خط عجز نقش تمنا نہ کھینچیے
- عجز عرق شرمے اے آئنہ حیرانی
- پرواز فنا مشکل میں عجز تن آسانی
- کو نفس وچہ غبار جرأت عجز آشکار
- سر نوشت خلق ہے طغراے عجز اختیار
- تیز تر ہوتا ہے خشم تند خو یاں عجز سے
- دام گاہ عجز میں سامان آسایش کہاں
- جز عجز کیا کروں بہ تمناے بے خودی
- بدین عجز اگر بدنامی تقدیر بہتر ہے
- وہ راز نالہ ہوں کہ بشرح نگاہ عجز
- میرا نیاز و عجز ہے مفت بتاں اسدؔ
- ہے خط عجز ماوتو اول درس آرزو
- کو بیابان تمنا و کجا جولان عجز
- آبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندان عجز
- اے دل و اے جان ناز اے دین و اے ایمان عجز
- یاں ہجوم عجز سے تا سجدہ ہے جولان عجز
- عشق نے وا کی ہے ہر یک خار سے مژگان عجز
- ہے عرق ریزی خجلت جوشش طوفان عجز
- قامت خوباں ہو محراب نیازستان عجز
- گرد باد اس راہ کا ہے عقدۂ پیمان عجز
- سراسر عجز ہو کر خانہ مانند کماں خالی
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانی فرعون توام ہے
- وداع حوصلہ توفیق شکوہ عجز وفا
- عجز اعجاز ستایش گر کھلا
- کس بات پہ مغرور ہے اے عجز تمنا
- بحکم عجز ابروے مہ نو حیرت ایما ہے
- عجز و نیاز سے تو نہ آیا وہ راہ پر
- بساط عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
- تغافل دوست ہوں میرا دماغ عجز عالی ہے
- مری فریاد کو کہسار ساز عجز مالی ہے
- عجز ہمت نے طلسم دل سائل باندھا
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بے دلی ہے
- شوق ہے ساماں طراز نازش ارباب عجز
- نگاہ عجز سر رشتۂ سلامت ہے
- ہے عجز بندگی کہ علی کو خدا کہوں
- بہ حکم عجز ابروئے مہ نو حیرت ایما ہے
- وو راز نالہ ہوں کہ بہ شرح نگاۂ عجز
- خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
- عجز سے اپنے یہ جانا کہ وہ بد خو ہوگا
- بہ عجز آباد وہم مدعا تسلیم شوخی ہے
- اسدؔ یہ عجز و بے سامانیٔ فرعون توام ہے
- داغ پشت دست عجز شعلہ خس بہ دنداں ہے
- جز عجز کیا کروں بہ تمنائے بے خودی
- کھینچا ہے عجز حوصلہ نے خط ایاغ کا
- شر و شور آرزو سے تب و تاب عجز بہتر
- غم عجز کا سفینہ بہ کنار بیدلی ہے
- توڑے ہے عجز تنک حوصلہ بر روے زمیں
- سبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار
- سر رشتۂ بیتابیٔ دل در گرہ عجز