عجب
15 Misre
- عجب نہیں پئے تحریر حال گریۂ چشم
- ہے عجب مردوں کو غفلت ہاے اہل دہر سے
- عجب کہ پر تو خور شمع شبنمستاں ہے
- کشود غنچۂ خاطر عجب نہ رکھ غافل
- گریاس سر نہ کھینچے تنگی عجب فضا ہے
- عجب اے آبلہ پایان صحراے نظر بازی
- خوں دل میں جو میرے نہیں باقی تو عجب کیا
- ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر
- حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
- سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
- عجب نشاط سے جلاد کے چلے ہیں ہم آگے
- عجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے
- اس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار
- ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے
- یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمن دیں