عبث
30 Misre
- عبث محمل آراے رفتار ہیں ہم
- دعواے جنوں باطل تسلیم عبث حاصل
- دلا عبث ہے تمناے خاطر افروزی
- دود شمع کشتۂ گل بزم سامانی عبث
- یک شبہ آشفتہ ناز سنبلستانی عبث
- نشہ مے کے تصور میں نگہبانی عبث
- عید در حیرت سوار چشم قربانی عبث
- بلبل تصویر و دعواے پر افشانی عبث
- آرزو ہا خار خار چین پیشانی عبث
- وادی حسرت میں پھر آشفتہ جولانی عبث
- اے دل از کف دادۂ غفلت پشیمانی عبث
- لیکن عبث کہ شبنم خرشید دیدہ ہوں
- میں بے ہنر کہ جوہر آئینہ تھا عبث
- عبث ہے خط ساغر جلوہ طوق گردن قمری
- ناز لطف عشق با وصف توانائی عبث
- رنگ ہے سنگ محک دعواے مینائی عبث
- پاسبانی طلسم کنج تنہائی عبث
- دعوی دریا کشی و نشہ پیمائی عبث
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- بہر از خود رفتگاں رنج خود آرائی عبث
- بن گیا تقلید سے میری یہ سودائی عبث
- عالم تسلیم میں یہ دعوی آرائی عبث
- دل کو اے بیداد خو تعلیم خارائی عبث
- خراب آباد غربت میں عبث افسوس ویرانی
- ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
- گو زندگیٔ زاہد بے چارہ عبث ہے
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن
- گھستے گھستے مٹ جاتا آپ نے عبث بدلا
- آئینہ دام کو پردے میں چھپاتا ہے عبث
- اگر آرزو ہے راحت تو عبث بہ خوں تپیدن