عالم
102 Misre
- عالم جہاں بعرض بساط وجود تھا
- عالم طلسم شہر خموشاں ہے سر بسر
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- ہے دو عالم صید انداز شہ دلدل سوار
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- عالم آب گداز جو ہر افسانہ ہم
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- موزونی دو عالم قربان ساز یک درد
- اسدؔ خستہ گرفتار دو عالم اوہام
- ہے سواد چشم قربانی میں یک عالم مقیم
- عالم بے سروسامانی فرصت مت پوچھ
- وحشت دل ہے اسدؔ عالم نیرنگ نشاط
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- عالم تسلیم میں یہ دعوی آرائی عبث
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- دو عالم دیدۂ بسمل چراغاں جلوہ پیمائی
- عالم ہمہ افسانۂ ما دارد و ما ہیچ
- شیرازۂ دو عالم یک آہ نارسا ہے
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- ذرہ ذرہ روکش خورشید عالم تاب تھا
- بے دماغ تپش و عرض دو عالم فریاد
- کس کا دل ہوں کہ دو عالم سے لگایا ہے مجھے
- مستعد قتل یک عالم ہے جلاد فلک
- ہے طاق فراموشی سوداے دو عالم
- تمام اجزاے عالم صید دام چشم گریاں ہے
- اگر وا ہو تو دکھلادوں کہ یک عالم گلستاں ہے
- حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا
- ہوں ہیولاے دو عالم صورت تقریر اسدؔ
- جس دشت میں وہ شوخ دو عالم شکار تھا
- جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور
- نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کف خاک
- منہ نہ کھلنے پر ہے وہ عالم کہ دیکھا ہی نہیں
- ایک عالم پہ ہیں طوفانی کیفیت فصل
- رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے
- جب تک کہ نہ دیکھا تھا قد یار کا عالم
- عالم غبار وحشت مجنوں ہے سر بہ سر
- عالم جہاں بہ عرض بساط وجود تھا
- عالم طلسم شہر خموشی ہے سربسر
- حیرت متاع عالم نقصان و سود تھا
- کہ مشق ناز کر خون دو عالم میری گردن پر
- نگاہ فتنہ خرام و در دو عالم باز
- شاہد ہستی مطلق کی کمر ہے عالم
- نامراد جلوہ ہر عالم میں حسرت گل کرے
- دو عالم کی ہستی پہ خط فنا کھینچ
- کرے جو پرتو خورشید عالم شبنمستاں کا
- کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
- شرر فرصت نگہ سامان یک عالم چراغاں ہے
- عالم بے سر و سامانیٔ فرصت مت پوچھ
- سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے
- جادہ اجزائے دو عالم دشت کا شیرازہ تھا
- بوریا یک نیستاں عالم بلند آوازہ تھا
- کشتی عالم بہ طوفان تغافل دے کہ ہیں
- عالم آب گداز جوہر افسانہ ہم
- ارادہ ہوں یک عالم افسردگاں کا
- ہے سواد چشم قربانی میں یک عالم مقیم
- جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
- مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
- کہ ایک وہم ضعیف و غم دو عالم ہے
- سراغ آوارۂ عرض دو عالم شور محشر ہوں
- ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
- ساز ایمائے فنا ہے عالم پیری اسدؔ
- اس کو کہتے ہیں عالم آرائی
- جلوے كا تیرے وہ عالم ہے کہ گر کیجے خیال
- عشق کے تغافل سے ہرزہ گرد ہے عالم
- ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم
- ایک بیکسی تجھ کو عالم آشنا پایا
- یاس کو دو عالم سے لب بہ خندہ وا پایا
- عالم تمام حلقۂ دام خیال ہے
- نسیہ و نقد دو عالم کی حقیقت معلوم
- دو عالم آگہی سامان یک خواب پریشاں ہے
- غرۂ اوج بنائے عالم امکاں نہ ہو
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- کچھ اور ہی عالم ہے دل و چشم و زباں کا
- تجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیم
- دو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم
- دیکھیے چل کے نظم عالم نثر
- نہیں اس کا جواب عالم میں
- نہیں ایسی کتاب عالم میں
- ہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام
- خوں ہوا جوش تمنا سے دو عالم کا دماغ
- حیرت آفت زدۂ عرض دو عالم نیرنگ
- چشم امید سے گرتے ہیں دو عالم جوں اشک
- وہ کف خاک ہے ناموس دو عالم کی امیں
- نقش ہر گام دو عالم صفہاں زیر نگیں
- برگ گل کا ہو جو طوفان ہوا میں عالم
- کہ اس آغوس میں ممکن ہے دو عالم کا فشار
- سبحہ عرض دو عالم بکف آبلہ دار
- موج طوفاں ہو اگر خون دو عالم ہستی
- ہے سراسر روی عالم ایجاد اسے
- تنگی حوصلہ گرداب دو عالم آداب
- تشنۂ خون دو عالم ہوں بہ عرض تکرار
- مہر عالم تاب کا منظر کھلا
- رسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
- کیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
- آج عالم اور ہے بازار کا
- پاڑ ہے تالار اک عالم سے پوچھ