عاجز
7 Misre
بس کہ عاجز نارسائی سے کبوتر ہو گیا
لا جرم توڑ کے عاجز قلم چند رہا
ہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو
کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔ
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے
بندہ عاجز ہے گردش ایام
غالبؔ عاجز نیاز آگیں
ع
All Letters