ظاہر
20 Misre
- ظاہر کرے ہے جنبش مژگاں سے مدعا
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- کہ ظاہر پنجۂ خرشید دست زیر پہلو ہے
- مسی آلودہ ہے مہر نوازش نامہ ظاہر ہے
- بہ زلف مہ وشاں رہتی ہے شب بیدار ظاہر ہے
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- اے اسدؔ تیرگی بخت سیہ ظاہر ہے
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- نظر بہ غفلت اہل جہاں ہوا ظاہر
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- امام ظاہر و باطن امیر صورت و معنی
- ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
- ترے لرزنے سے ظاہر ہے نا توانی شمع
- ظاہر ہے طرز قید سے صیاد کی غرض
- تیرے چہرے سے ہو ظاہر غم پنہاں میرا
- ظاہر ہے ہم سے کلفت بخت سیاہ روز
- ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرین
- ظاہر ہے تیرا حال سب ان پر کہے بغیر
- ظاہر كا یے پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے