طلب
29 Misre
- میں وادی طلب میں ہوا جملہ تن غرق
- کیجیے آہوے ختن کو خضر صحراے طلب
- درد طلب بہ آبلۂ نا دمیدہ کھینچ
- درد طلب بہ آبلۂ پا نہ کھینچیے
- بیابان فنا ہے بعد صحراے طلب غالبؔ
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- دیدار طلب ہے دل واماندہ کہ آخر
- آیا نہ بیابان طلب گام زباں تک
- نہیں گرداب جز سرگشتگی ہاے طلب ہرگز
- کہ دست آرزو سے یک قلم پاے طلب کاٹے
- گرمی شوق طلب ہے عین تا پاک وصال
- عبرت طلب ہے حل معماے آگہی
- فرسودن پاے طلب و دست ہوس کو
- پا پر از آبلہ راہ طلب مے میں ہوا
- سیر آں سوئے تماشا ہے طلب گاروں کا
- عاشقی صبر طلب اور تمنا بیتاب
- بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے
- عشق نبرد پیشہ طلب گار مرد تھا
- دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
- بیابان فنا ہے بعد صحراۓ طلب غالبؔ
- پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب
- نالہ جز حسن طلب اے ستم ایجاد نہیں
- پھر ہوئے ہیں گواہ عشق طلب
- ہاں اہل طلب کون سنے طعنۂ نایافت
- ہو سخن کی جسے طلب گاری
- شوخی عرض مطالب میں ہے گستاخ طلب
- آفرینش کو ہے واں سے طلب مستی ناز
- تیرا صحراے طلب محفل پیمانہ شکار
- تھا تو خط پر نہ تھا جواب طلب