طرف
46 Misre
- یک طرف جلتا ہے دل اور یک طرف جلتا ہوں میں
- مدعا گم کردہ ہر سو ہر طرف جلتا ہوں میں
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامان صحرا ہے
- تیغ در کف کف بلب آتا ہے قاتل اس طرف
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یارب
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- عیسی مہرباں ہے شفا ریز یک طرف
- درد آفریں ہے طبع الم خیز یک طرف
- سنجیدنی ہے ایک طرف رنج کوہکن
- خواب گران خسرو پرویز یک طرف
- کاوش فروشی مژۂ تیز یک طرف
- بے تابی دل تپش انگیز یک طرف
- دام ہوس ہے زلف دلاویز یک طرف
- ہم اک طرف ہیں برق شرر بیزیک طرف
- جس طرف سے آئے ہیں آخر ادھر ہی جائیں گے
- تکلف بر طرف تجھ سے تری تصویر بہتر ہے
- اب ہے دلی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ
- دامان شفق طرف نقاب مہ نو ہے
- یک طرف سودا و یکسو منت دستار ہے
- تکلف بر طرف تھا ایک انداز جنوں وہ بھی
- طرف سخن نہیں ہے مجھ سے خدا نہ کردہ
- ہے جوش گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرف
- گنجایش عداوت اغیار یک طرف
- پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
- تکلف بر طرف مل جائے گا تجھ سا رقیب آخر
- آئینہ ہوں شکستن طرف کلاہ کا
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
- تری طرف ہے بہ حسرت نظارۂ نرگس
- کیوں ہوا تھا طرف آبلۂ پا یا رب
- تکلف بر طرف نظارگی میں بھی سہی لیکن
- تکلف بر طرف آئینۂ تمئیز حائل ہے
- تکلف بر طرف ہے جاں ستاں تر لطف بد خویاں
- تکلف بر طرف ذوق زلیخا جمع کر ورنہ
- زنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
- آزادی نسیم مبارک کہ ہر طرف
- ترے جواہر طرف کلہ کو کیا دیکھیں
- داغ طرف جگر عاشق شیدا کہیے
- اس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم
- روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ
- سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ
- کہ باج تاج سے لیتا ہے جس کا طرف کلاہ
- یک طرف نازش مژگان و دگر سو غم خار
- موتیوں کا ہر طرف زیور کھلا
- پیٹھ محراب کی قبلے کی طرف رہتی ہے
- صبا لگا وہ طپانچے طرف سے بلبل کی