طبع
24 Misre
- طرز آفرین نکتہ سرائی طبع ہے
- بہ نقص ظاہری رنگ کمال طبع پنہاں ہے
- اسدؔ بہ نازکی طبع آرزو انصاف
- تیرگئ ظاہری ہے طبع آگہ کا نشاں
- اے دریغا کہ نہیں طبع نزاکت ساماں
- اسدؔ کو پیچ تاب طبع برق آہنگ مسکن سے
- اے اسدؔ خامش ہے طوطی شکر گفتار طبع
- بیم طبع نازک خوباں سے وقت سیر باغ
- درد آفریں ہے طبع الم خیز یک طرف
- مباداے پیچتاب طبع نقش مدعا گم ہو
- طبع عاشق حامل صد غلبۂ تاثیر ہے
- اسدؔ ہے طبع مجبور تمنا آفرینی ہا
- مفت صفاے طبع ہے جلوۂ ناز سوختن
- بوسۂ لب سے ملی طبع کو کیفیت حال
- اسدؔ طبع متیں سے گر نکالوں شعر برجستہ
- طبع کی واشد نے رنگ یک گلستاں گل کیا
- طرز آفرین نکتہ سرائی طبع ہے
- اسدؔ بہ نازکیٔ طبع آرزو انصاف
- لیکن عیار طبع خریدار دیکھ کر
- تا چند پست فطرتیٔ طبع آرزو
- رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
- طبع ہے مشتاق لذت ہاۓ حسرت کیا کروں
- طبع کو الفت دلدل میں یہ سرگرمی شوق
- توسن طبع چاہتا تھا لگام