طاقت
43 Misre
- رونے نے طاقت اتنی نہ چھوڑی کہ ایک بار
- رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں کر
- اسدؔ تا کے طبیعت طاقت ضبط الم لاوے
- بیداد انتظار کی طاقت نہ لا سکی
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- گداے طاقت تقریر ہے زباں تجھ سے
- طاقت حریف سختی خواب گراں نہیں
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- نیاز جلوہ ریزی طاقت بالیں شکستن ہا
- نزاکت ہے فسون دعوی طاقت شکستن ہا
- طاقت اگر اعجاز کرے تہمت خم باندھ
- طاقت بساط دستگہ یک قدم نہیں
- طاقت بیداد انتظار نہیں ہے
- نہ کھینچے طاقت خمیازہ تہمت ناتوانی کی
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- طاقت فسانۂ باد اندیشہ شعلہ ایجاد
- دیکھا تو ہم میں طاقت دیدار بھی نہیں
- طاقت بقدر لذت آزار بھی نہیں
- حالانکہ طاقت خلش خار بھی نہیں
- حسرت اے ذوق خرابی کہ وہ طاقت نہ رہی
- طاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
- مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی
- جانتا ہے کہ ہمیں طاقت فریاد نہیں
- نہ کہہ کہ طاقت رسوائی وصال نہیں
- کہ طاقت اڑ گئی اڑنے سے پہلے میرے شہ پر کی
- ورنہ باقی ہے طاقت پرواز
- ترے کوچے سے کہاں طاقت رم ہے ہم کو
- طاقت رنج سفر بھی نہیں پاتے اتنی
- دل میں طاقت جگر میں حال کہاں
- پر مجھے طاقت سوال کہاں
- جلتا ہوں اپنی طاقت دیدار دیکھ کر
- کہتے ہیں جب رہی نہ مجھے طاقت سخن
- رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
- طاقت حریف سختیٔ خواب گراں نہیں
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- طاقت لب تشنگی اے ساقیٔ کوثر نہیں
- یہ کافر فتنۂ طاقت ربا کیا
- بے مے کسے ہے طاقت آشوب آگہی
- تاب سخن و طاقت غوغا نہیں ہم کو
- طاقت ربادہ ان کا اشارا کہ ہاے ہاے
- یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
- مجھے طاقت آزمانی تجھے الفت آزمانی
- تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاں