طاق
12 Misre
- بدر ہے آئینۂ طاق ہلال
- آئینہ ایسے طاق پہ گم کر کہ تو نہ ہو
- یارب آئینہ بہ طاق خم شمشیر آوے
- ہے طاق فراموشی سوداے دو عالم
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- بھونچال میں گرا تھا یہ آئینہ طاق سے
- ہے کلاہ ناز گل بر طاق دیوار چمن
- آنکھوں کو رکھ کے طاق پہ دیکھا کرے کوئی
- لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں
- وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
- بھول جا یک قدح بادہ بہ طاق گلزار
- عرض خمیازۂ سیلاب ہو طاق دیوار