ضبط
40 Misre
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
- کہ ضبط تپش سے شرر کار ہیں ہم
- اسدؔ تا کے طبیعت طاقت ضبط الم لاوے
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندی گوہر
- داغ مہر ضبط بے جا مستی سعی سپند
- بینش بہ سعی ضبط جنوں نو بہار تر
- دیکھیے مت چشم کم سے سوے ضبط افسردگاں
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- ہجوم ضبط فغاں سے مری زبان خموش
- ہوا ہے گریۂ بے باک ضبط سے تسبیح
- نہیں برق و شرر جز وحشت و ضبط تپیدن ہا
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- فکر پرواز جنوں ہے سبب ضبط نہ پوچھ
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- خمار ضبط سے بھی نشۂ اظہار پیدا ہے
- ضبط گریہ گہر آبلہ لایا آخر
- ضبط سوز دل ہے وجہ حیرت اظہار حال
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گر دیار کے
- اشک بعد ضبط غیر از پنبۂ مینا نہیں
- ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہے
- ضبط سے مطلب بجز وارستگی دیگر نہیں
- نہیں ہے ضبط جز مشاطگی ہاے غم آرائی
- نہ دیجے پاس ضبط آبرو وقت شکستن بھی
- دریغ اے ناتوانی ورنہ ہم ضبط آشنایاں نے
- اے دل ناعاقبت اندیش ضبط شوق کر
- اے عدوئے مصلحت چند بہ ضبط افسردہ رہ
- غرور ضبط وقت نزع ٹوٹا بے قراری سے
- یوں بعد ضبط اشک پھروں گرد یار کے
- ضبط جنوں سے ہر سر مو ہے ترانہ خیز
- اے بہ ضبط حال نا افسردگاں جوش جنوں
- صرفہ ہے ضبط آہ میں میرا وگرنہ میں
- اس قدر ضبط کہاں ہے کبھی آ بھی نہ سکوں
- نہیں برق و شرر جز وحشت ضبط تپیدن ہا
- بہ رہن ضبط ہے آئینہ بندیٔ گوہر
- گر نگاہ گرم فرماتی رہی تعلیم ضبط
- از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازے
- اے دل فسردہ طاقت ضبط فغاں نہیں
- ضبط سے مطلب بہ جز وارستگی دیگر نہیں
- ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں