صد
103 Misre
- دل خستگاں کو ہے طرب صد چمن بہار
- ہر ایک ذرہ غیرت صد آفتاب ہے
- میں اور صد ہزار نوائے جگر خراش
- بہ یک مژگان خوباں صد چمن خوابیدنی جانے
- گداز ہر تمنا آبیار صد تمنا ہے
- چراغان تماشا چشم صد ناسور ملتے ہیں
- بھرے پیمانۂ صد زندگانی ایک جام اس کا
- خاک ہے عرض بہار صد نگارستاں اسدؔ
- یک نگاہ صاف صد آئینہ تاثیر ہے
- ورنہ صد محشر بہ رہن جلوۂ رخسار ہے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- ناز خود بینی کے باعث مجرم صد بے گناہ
- حسن و رعنائی میں وہم صد سر و گردن ہے فرق
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- تسکیں دہ صد محفل یک ساغر خالی ہے
- صد نالہ اسدؔ بلبل در بند زباں دانی
- ہے تصور میں نہاں سرمایۂ صد گلستاں
- قسمت بخت رقیب گردش صد جام ہے
- صد جلوہ روبرو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- فرصت آئینہ صد رنگ خود آرائی ہے
- گل صد شعلہ بیک جیب شکیبائی ہے
- وسعت گہ تمنا یک بام و صد ہوا ہے
- گردش میں لا تجلی صد ساغر تسلی
- یک برگ بے نوائی صد دعوت نیستاں
- ہے چمن سرمایۂ بالیدن صد رنگ دل
- سادگی یک خیال شوخی صد رنگ نقش
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- زمیں سے ہوتے ہیں صد دامن آسماں پیدا
- زبان شانہ سے تعبیر صد خواب پریشاں کی
- کہ ہیں صد رخنہ جوں غربال دیواریں گلستاں کی
- نقد صد دل بگریبان سحر پنہاں ہے
- چشمک آرائی صد شہر چراغاں مجھ سے
- صد جنبش دل یک مژہ برہم زدنی ہے
- جوں ذرہ صد آئینۂ بے زنگ نکالوں
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- دامان صد کفن تہ سنگ مزار ہے
- بکمر دامن صد رنگ گلستاں زدہ ہے
- غنچہ صد آئنہ زانوے گلستاں زدہ ہے
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- صد تجلی کدہ ہے صرف جبین غربت
- کہ موج گریہ میں صد خندۂ دنداں نما گم ہو
- بلا گردان تمکین بتاں صد موجۂ گوہر
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- جان عاشق حامل صد غلبۂ تاثیر ہے
- طبع عاشق حامل صد غلبۂ تاثیر ہے
- یک درد و صد دوا ہے یک دست و صد دعا ہے
- گر خاک ہو گلدستۂ صد نقش قدم باندھ
- شیرازۂ صد آبلہ جوں سبحہ بہم باندھ
- ہے تاک میں سلم ہوس صد قدح شراب
- جادہ پر زیور صد آئنہ منزل باندھا
- پاے صد موج بہ طوفاں کدۂ دل باندھا
- تہ خاکستر صد آئنہ پایا ہے مجھے
- بہزاد نقش یک دل صد چاک عرض کر
- درد آئنہ کیفیت صد رنگ ہے یارب
- زنجیری صد حلقۂ بیرون در آوے
- یک غنچہ سے صد خم مے گلرنگ نکالوں
- ورنہ صد گلزار ہے یک بال بلبل کے تلے
- پردۂ درد دل آئینہ صد رنگ نشاط
- دل ناسوختہ آتش کدۂ صد تب تھا
- تمثال شوق بے باک صد جا دوچار صحرا
- ہو چکے ہم جادہ ساں صد بار قطع اور پھر ہنوز
- ہے طلسم دہر میں صد حشر پاداش عمل
- راز دل صد پارہ کی ہے پردہ در انگشت
- دام ہر موج میں ہے حلقۂ صد کام نہنگ
- فرصت آئینۂ صد رنگ خود آرائی ہے
- گل صد شعلہ بہ یک جیب شکیبائی ہے
- ورنہ صد محشر بہ رہن صافیٔ رخسار ہے
- صد رگ جاں جادہ آسا وقف نشتر زار ہے
- تو ہو اور آپ بہ صد رنگ گلستاں ہونا
- صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔ
- صد رنگ گل کترنا در پردہ قتل کرنا
- تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ صد ذوق
- تماشائے بہ یک کف بردن صد دل پسند آیا
- صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
- میں اور صد ہزار نواۓ جگر خراش
- کشت سپند صد جگر اندوختن ہنوز
- صد گلستاں نگاہ کا ساماں کیے ہوئے
- صد رہ آہنگ زمیں بوس قدم ہے ہم کو
- چاہیے وقت تپش یک دست صد پہلو مجھے
- بہ خوں غلتیدۂ صد رنگ دعویٰ پارسائی کا
- بہ مہر صد نظر ثابت ہے دعویٰ پارسائی کا
- وہی صد رنگ نالہ فرسائی
- وہی صد گونہ اشک باری ہے
- زنار باندھ سبحۂ صد دانہ توڑ ڈال
- یک شکست رنگ گل صد جنبش مہمیز ہے
- حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے
- گردش ساغر صد جلوۂ رنگیں تجھ سے
- چشمک آرائی صد شہر چراغاں مجھ سے
- بارے نوکر بھی ہو گیا صد شکر
- ہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت
- ہر کف خاک جگر تشنۂ صد رنگ ظہور
- بیم سے جس کے صبا توڑے ہے صد جا زنار
- رفعت ہمت صد عارف و یک اوج حصار
- سبق نازکی ہے عجز کو صد جا تکرار
- خون صد برق سے باندھے بکف دست نگار
- ناز پروردۂ صد رنگ تمنا ہوں ولے
- تھا سر سلسلہ جنبانی صد عمر ابد
- یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتر
- یہ ہمیشہ بہ صد نشاط و سرور
- نقش سطر صد تبسم ہے بر آب زیر کاہ