صحراے
14 Misre
- گرد صحراے حرم تا کوچۂ زنار ہے
- کیجیے آہوے ختن کو خضر صحراے طلب
- راہ صحراے حرم میں ہے جرس ناقوس و بس
- سبزۂ صحراے الفت نشتر خوں ریز ہے
- بیابان فنا ہے بعد صحراے طلب غالبؔ
- ہے بہ صحراے تحیر چشم قربانی جرس
- سر منزل ہستی سے ہے صحراے طلب دور
- خوش اوفتادگی کہ بہ صحراے انتظار
- بس کہ بے پایاں ہے صحراے محبت اے اسدؔ
- عصاے خضر صحراے سخن ہے خامہ بیدل کا
- اے آبلے مجمل پئے صحراے عدم باندھ
- عجب اے آبلہ پایان صحراے نظر بازی
- خاک صحراے نجف جوہر سیر عرفا
- تیرا صحراے طلب محفل پیمانہ شکار