صحرا
48 Misre
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- کہ تار جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- کہ صحرا فصل گل میں رشک ہے بت خانۂ چیں کا
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بکف دامان صحرا ہے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- پاے نظر بہ دامن صحرا نہ کھینچیے
- یک دو چیں دامان صحرا پردۂ محمل ہوا
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- تو کہے صحرا غبار دامن دیوانہ تھا
- کو تیزی رفتار کہ صحرا سے زمیں کو
- صحرا کو بھی گھر سے کئی فرسنگ نکالوں
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- یک گام بیخودی سے لوٹیں بہار صحرا
- آغوش نقش پا میں کیجے فشار صحرا
- پیمانۂ ہوا ہے مشت غبار صحرا
- اے نور چشم وحشت اے یادگار صحرا
- دل در رکاب صحرا خانہ خراب صحرا
- موج سراب صحرا عرض خمار صحرا
- تمثال شوق بے باک صد جا دوچار صحرا
- سر میں ہواے گلشن دل میں غبار صحرا
- زینت یک پیرہن جوں دامن صحرا نہیں
- کہ ہے آبادی صحرا ہجوم خانہ بردوشاں
- فال رسوائی سرشک سر بہ صحرا دادہ سے
- جوش نیرنگ بہار عرض صحرا دادہ سے
- وہ ایک مشت خاک کہ صحرا کہیں جسے
- ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
- نگاہ شوق کو صحرا بھی دیوان غزالی ہے
- سرشک سر بہ صحرا دادہ نور العین دامن ہے
- تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی
- صحرا کہاں کہ دعوت دریا کرے کوئی
- صحرا مگر بہ تنگی چشم حسود تھا
- گر دام یہ ہے وسعت صحرا شکار ہے
- بہم بالیدن سنگ و گل صحرا یہ چاہے ہے
- کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
- صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
- ذرہ صحرا دست گاہ و قطرہ دریا آشنا
- کہ ناز جادۂ رہ رشتۂ دامان صحرا ہے
- کہ مژگاں جس طرف وا ہو بہ کف دامان صحرا ہے
- صحرا ہماری آنکھ میں یک مشت خاک ہے
- نفس قیس کہ ہے چشم و چراغ صحرا
- پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد
- عدم کو لے گئے دل میں غبار صحرا کا
- صحرا لکھا گیا ز رہ امتثال امر
- کوچہ دیتا ہے پریشاں نظری پر صحرا
- کوہ و صحرا ہمہ معموری شوق بلبل
- یک بیاباں تپش بال شرر سے صحرا
- دشت صحرا اور جنگل ایک ہے