صبح
69 Misre
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- خیال زلف و رخ دوست صبح و شام رہا
- کہ صبح عید مجھ کو بدتر از چاک گریباں ہے
- گر گیا بام فلک سے صبح طشت ماہتاب
- صبح بہار بھی قفس رنگ و بو نہ ہو
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- دعوی عشق بتاں سے بہ گلستاں گل و صبح
- ہیں رقیبانہ بہم دست و گریباں گل و صبح
- جامہ زیبوں کے سدا ہیں نہ داماں گل و صبح
- ہیں دعا ہاے سحرگاہ سے خواہاں گل و صبح
- بس کہ ہیں بے خود و دا رفتہ و حیراں گل و صبح
- غفلت آرامی یاراں پہ ہیں خنداں گل و صبح
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- برہنہ مستی صبح بہار رکھتے ہیں
- چراغ صبح و گل موسم خزاں تجھ سے
- آخر اس پردے میں تو ہنستی تھی اے صبح وصال
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- دریغ آہ سحرگہ کار باد صبح کرتی ہے
- صبح و شبنم فرصت نشو و نماے خندہ ہے
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- صبح دم وہ جلوہ ریز بے نقابی ہو اگر
- کوچہ دے ہے زخم دل صبح وطن کی فکر میں
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- گل کھلے غنچے چٹکنے لگے اور صبح ہوئی
- نظر آتی نہیں صبح شب دیجور ہنوز
- دم صبح قیامت در گریبان قبا گم ہو
- صبح یک زخم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- شام خیال زلف سے صبح دمیدہ ہوں
- یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تک
- جبین صبح امید فسانہ گویاں پر
- صبح ناپیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- صبح سے معلوم آثار ظہور شام ہے
- مئے کیفیت خمیازہ ہاے صبح آغوشاں
- پنبہ نور صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
- آفتاب صبح محشر ہے گل دستار دوست
- صبح بہار پنبۂ مینا کہیں جسے
- صبح قیامت ایک دم گرگ تھی اسدؔ
- شعاع آفتاب صبح محشر تار بستر ہے
- جوں صبح چاک جیب مجھے تار و پود تھا
- صبح یک بزم نمک سود چراغ کشتہ ہے
- اسدؔ کی طرح میری بھی بغیر از صبح رخساراں
- یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
- صبح و شبنم فرصت نشو و نماۓ خندہ ہے
- رات پی زمزم پہ مے اور صبح دم
- فارغ مجھے نہ جان کہ مانند صبح و مہر
- حب شبنم سے صبا ہر صبح کرتی ہے علاج
- رنگ شکستہ صبح بہار نظارہ ہے
- صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
- مبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی
- ہوائے صبح یک عالم گریباں چاکی گل ہے
- صبح کے مانند زخم دل گریبانی کرے
- صبح موجۂ گل کو نقش بوریا پایا
- تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
- صد جلوۂ آئینہ یک صبح جدائی ہے
- کہ صبح عید مجھ کو بد تر از چاک گریباں ہے
- ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
- صبح وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
- صبح نا پیدا ہے کلفت خانۂ ادبار میں
- صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیں
- جلوۂ ریگ رواں دیکھ کے گردوں ہر صبح
- دو دن آیا ہے تو نظر دم صبح
- صبح جو جائے اور آئے شام
- شبنم صبح ہوئی رعشۂ اعضاے بہار
- صبح دم دروازۂ خاور کھلا
- صبح کو راز مہ و اختر کھلا
- صبح آیا جانب مشرق نظر
- وہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے
- رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلک
- صبح سے دیکھیں گے رستہ یار کا