صاحب
18 Misre
- صاحب دل ہا وکیل حضرت اللہ ہے
- چار سوے عشق میں صاحب دکانی مفت ہے
- ناگوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں
- ہے اسدؔ نقصاں میں مفت اور صاحب سرمایہ تو
- تم کرو صاحب قرانی جب تلک
- نہیں ہے مردن صاحب دلاں جز کسب جمعیت
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
- نا گوارا ہے ہمیں احسان صاحب دولتاں
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
- ہے مکیں کی پا داری نام صاحب خانہ
- عشق سے آتے تھے مانع میرزاؔ صاحب مجھے
- مسٹر کوان صاحب عالی مقام کی
- ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
- صاحب شاخ و برگ و بار ہے آم
- کوئی اس کا جواب دو صاحب
- سائلوں کا ثواب لو صاحب
- صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے