شیشۂ
14 Misre
- شیشۂ بے بادہ سے چاہے ہے قلقل ہنوز
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- شیشۂ آتشیں رخ پر نور
- شیشۂ مے سرو سبز جویبار نغمہ ہے
- پنبۂ شیشۂ شراب کف بلب ایاغ ہے
- یاں گلوے شیشۂ مے قبضۂ شمشیر ہے
- لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
- کہ آخر شیشۂ ساعت کے کام آیا غبار اپنا
- شیشۂ مے سرو سبز جوئبار نغمہ ہے
- ہے غبار شیشۂ ساعت رم آہو مجھے
- لخت لخت شیشۂ بشکستہ جز نشتر نہیں
- شکست شیشۂ دل کی صدا کیا
- ریزۂ شیشۂ مے جوہر تیغ کہسار
- گرد رہ اس کی بھریں شیشۂ ساعت میں اگر