شیریں
18 Misre
- کہ قند بوسۂ شیریں لباں مکرر ہو
- کہ بوسۂ لب شیریں ہے اور گلو سوزی
- مرگ شیریں ہو گئی تھی کوہکن کی فکر میں
- شرار سنگ سے پادرحنا گلگون شیریں ہے
- جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہن
- آمد خط ہے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا
- کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
- پیتا ہوں دھوکے خسرو شیریں سخن کے پاؤں
- کوہ کن نقاش یک تمثال شیریں تھا اسدؔ
- ہر چند میں ہوں طوطی شیریں سخن ولے
- آمد خط سے نہ کر خندۂ شیریں کہ مباد
- ہو گئی ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
- وہ میوہ ہاے تازۂ شیریں کہ واہ واہ
- بے ستوں آئنۂ خواب گران شیریں
- کشتۂ افعی زلف سیہ شیریں کو
- جان شیریں میں یہ مٹھاس کہاں