شکوۂ
9 Misre
- لکھ سکا میں نہ اسے شکوۂ پیماں شکنی
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا
- شکوۂ یاراں غبار دل میں پنہاں کر دیا
- دیباچۂ وحشت ہے اسدؔ شکوۂ خوباں
- جب کہ میں کرتا ہوں اپنا شکوۂ ضعف دماغ
- مرے دل میں ہے غالبؔ شوق وصل و شکوۂ ہجراں
- شکوۂ جور سے سرگرم جفا ہوتا ہے
- ہے تقاضائے جفا شکوۂ بیداد نہیں
- مٹا جس سے تقاضا شکوۂ بے دست و پائی کا