شکوہ
18 Misre
- اسدؔ شکوہ کفر و دعا ناسپاسی
- ہے نہال شکوہ ریحان سفال
- شکوہ درد و درد داغ اے بے وفا معذور رکھ
- خوں ہوا دل تا جگر یارب زبان شکوہ لال
- وداع حوصلہ توفیق شکوہ عجز وفا
- مدح سے ممدوح کی دیکھی شکوہ
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- کرتے ہو شکوہ کس کا تم اور بے وفائی
- ہے شرح شوق کو بھی جوں شکوہ ناتمامی
- قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
- شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہ رہنا چاہیے
- بے دماغی شکوہ سنج رشک ہم دیگر نہیں
- خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہ
- ضعف میں طعنہ اغیار کا شکوہ کیا ہے
- غلط ہے جذب دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
- گاہ جل کر کیا کیے شکوہ
- چشم بد دور خسروانہ شکوہ
- کہے گی خلق اسے داور سپہر شکوہ