شکن
7 Misre
ہر عضو غم سے ہے شکن آسا شکستہ دل
فرد آئینہ میں بخشیں شکن خندۂ گل
کہ بن گیا ہے خم جعد پر شکن تکیہ
شکن زلف عنبریں کیوں ہے
آخر اے عہد شکن تو بھی پشیماں نکلا
ہے اک شکن پڑی ہوئی طرف نقاب میں
دل عاشق شکن آموز خم طرۂ یار
ش
All Letters