شکل
14 Misre
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- نہیں ہے بے سبب قطرے کو شکل گوہر افسردن
- ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاں
- شکل طاؤس گرفتار بنایا ہے مجھے
- کہ جس کے در پہ غنچہ شکل قفل زر نہیں ہوتا
- کئی کانٹے ہیں اور پیراہن شکل نہالی ہے
- کف ہر خاک گلشن شکل قمری نالہ فرسا ہو
- زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
- منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی
- گرم فریاد رکھا شکل نہالی نے مجھے
- دل اس کا پھوڑ کے نکلے بہ شکل پھوڑے کے
- شکل طاؤس کرے آئنہ خانہ پرواز
- نتیجہ اپنی آہوں کا ہے شکل مستوی پورا