شکر
12 Misre
- شکر سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
- اے اسدؔ خامش ہے طوطی شکر گفتار طبع
- تمنا ہے اسدؔ قتل رقیب اور شکر کا سجدہ
- چشم میں توڑے نمکداں تا شکر خوابی کرے
- اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکر
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھ
- کس منہ سے شکر کیجئے اس لطف خاص کا
- بارے نوکر بھی ہو گیا صد شکر
- ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے
- مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک
- وہ مہرباں ہو تو انجم کہیں الٰہی شکر