شکایت
15 Misre
- شکر سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو
- خجلت کش وفا کو شکایت نہ چاہیے
- مہربانی ہائے دشمن کی شکایت کیجیے
- تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
- دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستم گر
- بخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
- کس سے محرومیٔ قسمت کی شکایت کیجے
- دوست کی شکایت میں ہم نے ہم زباں اپنا
- کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
- کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ
- ہر چند بر سبیل شکایت ہی کیوں نہ ہو
- ہوں سراپا ساز آہنگ شکایت کچھ نہ پوچھ
- کبھی شکایت رنج گراں نشیں کیجے
- شکایت ہائے رنگیں کا گلہ کیا
- ہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے